Eid ul Adha 2025 – Mukhtasar Ahkaam o Masail

 📚 جمع و ترتیب:

امان اللہ ذوالفقار احمد نوری حفظہ اللہ
(صدر، الاحسان اسلامک دعوت سینٹر)


Eid ul Adha 2025 – Mukhtasar Ahkaam o Masail

Eid ul Adha 2025 ke moqe par qurbani aur eid ke mutaalliq mukhtasar ahkaam o masail ka asan aur mufeed jaiza. Is mein qurbani ke zaroori usool, waqt, niyyat, aur ahem sawalat ke jawabat shaamil hain – har Musalman ke liye raahnuma.

 

FROM:

JANAB VAZHUL KAMAR ABDUL RAUF KHAN
(President, ARP Foundation Educational & Welfare Society)

(9920200320)


NAZIM:

MOHAMMAD MATIBULLAH SAHEB (BELAHRI)
(NAZIM , Madrasa Faizul Uloom Belahri)

+91 98393 06368


CONTACT FOR MORE DETAILS:

MOHAMMAD SHEHZAD ALAM (GAYA NAGAR)
(MANAGER , ARP Foundation Educational & Welfare Society)

+91 73988 67234


मार्गदर्शक:

मा. जनाब वजहुल कमर अब्दुल रऊफ खान

(अध्यक्ष, एआरपी फाउंडेशन एजुकेशनल एंड वेलफेयर सोसाइटी बेलहरी)

स्थान:
ग्राम बेलहरी,
पोस्ट पर्सा बेलहारी,
बर्डपुर नं. 05,
सिद्धार्थ नगर, उत्तर प्रदेश 272202.



قربانی کے مختصر احکام و مسائل

📚 جمع و ترتیب:
امان اللہ ذوالفقار احمد نوری حفظہ اللہ
(صدر، الاحسان اسلامک دعوت سینٹر)


قربانی کا اصطلاحی مفہوم:

عیدالاضحی کی نماز کے بعد پہلے دن یا قربانی کے دنوں میں بہیمۃ الانعام (مثلاً بکری، بھیڑ، گائے اور اونٹ) میں سے کسی جانور کو شرعی طریقے پر بطورِ قربانی و تقرب ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے۔

قربانی کا حکم: قربانی سنت موکدہ ہے، واجب نہیں ہے۔  جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج (عیدالاضحی) کے دن ہم سب سے پہلے نماز پڑھیں گے، پھر واپس آ کر قربانی کریں گے۔ (ان شاء اللہ)جس نے ایسا کیا تو ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے (نماز سے) پہلے ذبح کر لیا تو اس کی قربانی نہیں ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5545)


قربانی کرنے والے کے لئے چند شرائط

1) قربانی کرنے والے کا صحیح العقیدہ مسلمان و متبعِ کتاب و سنت ہونا ضروری ہے۔


2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے تو اسے اپنے بال اور ناخن تراشنے سے رُک جانا چاہئے۔ (صحیح مسلم: 1977)


اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کرنے والے شخص کو یکم ذوالحجہ سے لے کر قربانی کرنے تک اپنے بال نہیں کاٹنے چاہئیں اور ناخن نہیں تراشنے چاہئیں۔


قربانی کا مقصد: 

قربانی کا مقصد اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا اور رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ مطہرہ پر خلوصِ نیت سے عمل کرنا ہے۔ 


قربانی کے جانور کی شرائط:


1) قربانی کے جانور کی عمر: قربانی صرف مُسنہ یعنی دوندے جانور کی ہی جائز ہے اور اگر تنگی کی وجہ سے دوندا نہ مل سکے تو پھر بھیڑ (دنبے) کا جذعہ (ایک سال کے دنبے) کی قربانی جائز ہے۔ (صحیح مسلم: 1963)


2) چار قسم کی جانوروں کی قربانی جائز اور درست نہیں ہے:


1) ایسا جانور جو کانا ہو اور اس کا کانا پن بالکل واضح ہو۔

2) ایسا جانور جو بیمار ہو اور اس کی بیماری بالکل واضح ہو۔

3) ایسا جانور جو لنگڑا ہو اور اس کا لنگڑا پن بالکل نمایاں ہو۔

4) اور بہت زیادہ کمزور و لاغر جانور جو کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو۔(سنن ابی داود: 2802)

اسی طرح ایسا جانور جس کا سینگ ٹوٹا ہو یا کان وغیرہ پھٹا ہو یا اندھا ہو تو ان عیبوں والی جانور کی قربانی جائز اور درست نہیں ہے ان سب کا تذکرہ احادیث میں ملتا ہے۔


قربانی کے جانور میں شراکت:

بکری اور دُنبے بھیڑ کا صرف ایک حصہ ہوتا ہے، لیکن گائے، بیل اور اونٹ اونٹنی میں سات حصے صحیح حدیث سے ثابت ہیں۔(مزید وضاحت کے لئے دیکھیں، صحیح مسلم: 1318)


گوشت کی تقسیم:

قربانی کا سارا گوشت خود کھانا یا ذخیرہ کر لینا جائز ہے اور اس کے تین حصے کر کے ایک حصہ اپنے لئے، ایک غریب مسکین لوگوں کے لئے اور ایک رشتہ داروں دوستوں کے لئے مخصوص کرنا بھی جائز ہے، بلکہ یہ بہتر ہے۔ (سورۃ الحج، آیت نمبر: 28، 36)


قربانی کی کھالیں:

قربانی کی کھالیں مسکین لوگوں میں تقسیم کر دیں،(مزید وضاحت کے لئے رجوع کریں، صحیح مسلم: 1317)


ذبح کرنے والے یا قصاب کو اُجرت میں قربانی کی کھالیں دینا جائز نہیں ہے اور اسی طرح اُجرت میں قربانی کا گوشت دینا بھی جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔


قربانی کی چند متفرق مسائل: 


1) جانور کو ذبح کرتے وقت تسمیہ و تکبیر (بسم اللہ و اللہ اکبر ) کہنا سنت سے ثابت ہے۔ ( صحیح مسلم: 1966، صحیح بخاری: 5564)

صرف بسم اللہ پڑھنا بھی ثابت ہے۔ (صحیح مسلم: 1967)


2)قربانی کا جانور ذبح کرنے کی دعا: 

* بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ (اللہ کے نام پراور اللہ سب سے بڑا ہے)(صحيح مسلم، 1966)

 * بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، {اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ} (اللہ کے نام پراور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ تیرے فضل سے ہے اور تیرے لئے ہے)(صحيح مسلم، 1966)

* بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ،{ اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ} (اللہ کے نام پراور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ !اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما)[صحيح مسلم رقم1966 و 1967]

 * بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، {اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ}، { اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ} ۔۔۔ (اللہ کے نام پراور اللہ سب سے بڑا ہے،اے اللہ! یہ تیرے فضل سے ہے اور تیرے لئے ہے، اے اللہ !اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما) (صحيح مسلم، 1966)

نوٹ: اللھم تقبل من کے بعد جن کی جانب سے قربانی کررہے ہیں ان کا نام لیں۔


3) ایک جانور پورے گھر کی طرف سے کافی ہوگا۔ (سنن الترمذی: 1505)


4) قربانی کا جانور خود ذبح کرنا سنت ہے اور دوسرے سے ذبح کروانا بھی جائز ہے۔ اگر گھر کی عورت قربانی کا جانور ذبح کرنا چاہئے تو عورت بھی ذبح کرسکتی ہیں۔ 


5) خصی جانور کی قربانی جائز اور درست ہے۔


6) صاحب مال و دولت اگر چاہئے تو ایک سے زائد جانور کی قربانی کرسکتا ہے خلوص نیت کے ساتھ۔


📚 جمع و ترتیب:
امان اللہ ذوالفقار احمد نوری حفظہ اللہ
(صدر، الاحسان اسلامک دعوت سینٹر)








Comments

Popular posts from this blog

DONATION CAMPAIGN FOR MADRASA

MAJLISE NOOR | JLAAS-E-AAM 03-NOVEMBER-2025

IJLAAS-E-AAM 11-AUGUST-2025